یقین
یقین کسی کہتے ہیں ؟؟ یقین کسی چیز کو مکمل طور پر جان لینے کے علم کو کہتے ہیں جو پرکھ جانچ تجربات سے حاصل ہوتا ہے قرآن مجید کا ایک اصول ہے ثم تتفکروا think and think again بدقسمتی سے ہمارے پاس یقین ان جانچے ایسے ایمان کا نام ہے جو مختلف فقرات کے دہرانے سے حاصل ہوتا ہے قرآن مجید یقین کے تین درجے گنواتا ہے پہلا علم الیقین یعنی کسی چیز کا سن کر پڑھ کر یقین پانا جیسے کوئی کہے آگ جلاتی ہے یقین کرنا دوسرا عین الیقین یعنی اپنی آنکھوں سے دیکھنا جیسے آگ سے کسی کو جلتے دیکھنا تیسرا درجہ انتہا کی پختگی حق الیقین جیسے خود کسی کا کوئی اعضاء آگ میں جلے تو وہ پختہ یقین ہے جسے جھٹلانا ناممکن ہے اب ہمارے پاس ایک اصطلاح ہے علم غائب جس پر ایمان لانا بنیادی شرط ہے اگر قرآن مجید کی درج بالا یقین کے درجات کی تعریف دیکھی جائے تو ایمان بالغیب کا عقیدہ اس کے سامنے مکمل رد ہو جاتا ہے بدقسمتی سے ہمارے پاس مروجہ اسلام کے تصورات اتنے پختہ ہیں کہ ان کے خلاف دلیل اور حقائق سے لکھنا بھی گردن زنی کے مترادف ہے جب قرآن مجید تدبر تفکر بار بار سوچنے کی تلقین کرتا ہے خود یقین کے درجات بیان کرتا تو علم الغیب کا مفروضہ د...